شہرۂ آفاق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دنیا میں مشہور، دور دور تک سب کو معلوم، شہرۂ انام، غیر معمولی شہرت رکھنے والا۔ "یہ بات . شہرۂ آفاق علما و فاضلین کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، غزل اور غزل کی تعلیم، ٨ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم 'شُہرْہ' کے ساتھ ء زائد لگا کر عربی ہی سے مشتق اسم 'آفاق' ملنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا میں مشہور، دور دور تک سب کو معلوم، شہرۂ انام، غیر معمولی شہرت رکھنے والا۔ "یہ بات . شہرۂ آفاق علما و فاضلین کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، غزل اور غزل کی تعلیم، ٨ )